تیمم کے مختلف مسائل
١٠. عورت کے لئے پانی کے ہوتے ہوئے سفر میں پانی لینے نہ جانا اور تیمم کر لینا جائز نہیں ایسا پردہ جس میں شرعیت کا کوئی حکم چھوٹ جائے ناجائز و حرام ہے پس اس کو برقعہ اوڑھ کر یا سارے بدن پر چادر لپیٹ کر پانی کے لئے جانا واجب ہے البتہ لوگوں کے سامنے بیٹھ کر وضو نہ کرے اور ہاتھ منھ نہ کھولے ، اگر پانی کی جگہ جانے میں اس کو اپنی جان و مال اور عزت و آبرو وعصمت کا خوف ہو تو نہ جائے اس کو تیمم کرنا جائز ہے ،
١١. جنبی کو مسجد میں بلا ضرورت جانے کے لئے تیمم جائز نہیں لیکن اگر مجبوراً جانا پڑے تو جائز ہے۔ مگر ضرورت پوری ہونے پر جلدی نکل آئے ، اسی طرح اگر مسجد میں سویا ہوا تھااور نہانے کی ضرورت ہو گئی تو آنکھ ۔کھلتے ہے جہاں سویا تھا فوراً تیمم کر کے باہر نکل آئے دیر کرنا حرام ہے ١٢. ریل میں سیٹوں اور گدوں پر جو گرد وغبار جم جاتا ہے اس پر تیمم جائز ہے ، یہ وہم نہیں کرنا چاہئے کہ شاید یہ غبار پاک ہے یا ناپاک ،
١٣. ریل گاڑی میں جہاں مسافر جوتے پہن کر چلتے ہیں وہ مٹی ناپاک ہے اس سے تیمم کرنا درست نہیں ،
١٤. اگر کسی آدمی کے آدھے سے زیادہ جسم پر زخم یا چیچک نکلی ہو تو تیمم کرنا درست ہے ،
١٥. اگر سفر میں کسی دوسرے آدمی کے پاس پانی ہے اور اس کا گمان غالب یہ ہو کہ اگر اس سے پانی مانگوں گا تو مل جائے گا تو بغیر مانگے تیمم کرنا درست نہیں اور گمان غالب یہ ہو کہ مانگنے سے وہ شخص پانی نہیں دے گا تو تیمم کر کے نماز پڑھ لینا درست ہے لیکن اگر نماز پڑھنے کے بعد اس سے پانی مانگا اور اس نے دیدیا تو نماز کو دہرانا پڑے گا ، اسی طرح اگر نماز کی حالت میں کسی شخص کے پاس پانی دیکھا اور اس کو گمان غالب یہ ہے کہ مانگنے سے دیدے گا تو نماز قتع کر دے اور پانی مانگے اگر وہ دیدے تو وضو کرے اور اگر نہ دے تو اس کا وہی تیمم باقی ہے اور اگر نہیں مانگا اور نماز پوری کر لی پھر اس نے ازخود یا مانگنے پر پانی دیدیا تو اعادہ لازم ہے اور اگر نہ دے تو اعادہ لازم نہیں اور گمان غالب نہ ہو صرف شک ہو تو نماز نہ توڑے اور پوری کرنے کے بعد پانی مانگے پھر اگر ازخود یا مانگنے سے دیدے تو وضو کر کے نماز کا اعادہ کرے اور اگر نہ دے تو وہی نماز کافی ہے ،
١٦. اگر وہ عذر جس کی وجہ سے تیمم کیا گیا ہے بندوں کی طرف سے ہو تو جب عذر جاتا رہے جس قدر نمازیں اس تیمم سے پڑھی ہیں سب دوبارہ پڑہنی چاہئیں مثلاً کوئی شخص جیل خانہ میں ہو اور وہاں کے ملازم اس کو پانی نہ دیں یا مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ اگر تو وضو کرے گا تو تجھ کو مار ڈالوں گا ایسی صورت میں تیمم کر کے نمازیں ادا کرے اور عذر دور ہونے پر سب نمازوں کو دوبارہ پڑھنا چاہئے ،
١٧. اگر پانی پر بھی قادر نہ ہو اور مٹی سے تیمم پر بھی قادر نہ ہو تو بلا طہارت نماز پڑھ لے پھر عذر دور ہونے پر اس کو طہارت کے ساتھ لوٹانا لازمی ۔ہے