اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


زکوة فرض ہونے کی شرطیں
١٠. مال پر سال کا گزرنا(صفحہ ٢)
٧. جو مال دورانِ سال میں حاصل ہوا اس کو ملانا اس وقت درست ہے جبکہ اصل مال پہلے سے بقدر نصاب ہو اور اگر نصاب سے کم ہو تو اب نیا مال پہلے مال میں ملا کر پہلے مال کے حساب سے سال پورا ہونے پر زکٰوة فرض نہیں ہو گی بلکہ اگر نیا مال ملا کر نصاب پورا ہو جاتا ہے تو اب سے سال شروع ہو گا اور اس سال کے پورا ہونے پرزکٰوة فرض ہو گی اسی طرح اگر کسی کے پاس شروع سال میں نصاب پورا تھا پھر دورانِ سال میں کچھ مال خرچ ہو گیا اور نصاب سے کم رہ گیا اس کے بعد نیا مال حاصل ہو گیا تو اس کو ملا کر کل رقم کی زکٰوة پہلے مال پر سال پورا ہونے کے بعد ادا کرنی واجب ہو گی جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے لیکن اگر سال کے درمیان میں تمام مال ہلاک ہو گیا یا خرچ ہو گیا اس کے بعد اور مال بقدر نصاب حاصل ہو گیا تو اب پہلے مال کے سال کا اعتبار نہیں ہو گا کیونکہ اس مال کے ختم ہو جانے سے اس کا سال بھی منقطع ہو گیا اب نئے مال پر اس کے ملنے سے سال شروع ہو گا اور اس سال کے پورا ہونے پرزکٰوة فرض ہو گی مثلاً اگر کسی شخص کے پاس دس تولہ سونا تھا مگر سال گزرنے سے پہلے سب ضائع ہو گیا تو اس پر زکٰوة واجب نہیں ہے پھر اگر سال ختم ہونے سے پہلے اس کو اور دس تولہ سونا حاصل ہو گیا تو اس کے حاصل ہونے کے وقت سے اس پر سال شروع ہو گا اگر کسی شخص کے پاس دو سو درہم تھے اور ان پر ایک دن کم تین سال گزر گئے پھر اس کو پانچ درہم اور حاصل ہوئے تو پہلے سال کے پانچ درہم ادا کرے گا اور دوسرے اور تیسرے سال کے لئے کچھ ادا نہیں کرے گا اس لئے کہ دوسرے اور تیسرے سال میں زکٰوة کے دین کی وجہ سے وہ رقم نصاب میں کم رہ گئی ہے پس چونکہ سال کے شروع میں نصاب پورا نہیں ہے اس لئےتیسرے سال میں جو پانچ درہم نئے حاصل ہوئے ہیں وہ اس میں نہیں ملائے جائیں گے کسی کے پاس زکٰوة کا مال تھا اس نے سال گزرنے کے بعد ابھی تک اس کی زکٰوة ادا نہیں کی تھی کہ وہ سارا مال ضائع ہو گیا تو اس کی زکٰوة معاف ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ