اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


سونے اور چاندی کی زکٰوة کا بیان(صفحہ ٣)
٤. امام صاحب کے نزدیک نصاب سے اوپر جو زیادتی ہو جب تک وہ نصاب کاپانچواں حصہ نہ ہو جائے معاف ہے اس میں کچھ زکوة نہیں پس چاندی میںنصاب سے اوپر انتالیس درہم تک نہ ہو جائیں معاف ہے اور جب زیادتی چالیسدرہم ہو جائے تو ایک درہم اس کی زکوة میں دینا واجب ہے، اسی طرح ہر چالیسدرہم میں ایک درہم زکوة واجب اور انتالیس تک معاف ہے سونے میں چار مثقال اورہر چار مثقال کی زیادتی ہو جائے تو دو قیراط اس کی زکوة کے واجب ہوں گےاور ہر چار مثقال کی زیادتی پر دو قیراط زکوة واجب ہوتی جائے گی، اگر سونےکے نصاب کی زیادتی اور چاندی کے نصاب کی زیادتی الگ الگ پانچوں حصہ سے کم ہو اور ملا کر پانچواں حصہ ہو جائے تو دونوں کو ملائیں گےصاحبین کے نزدیک نصاب پر زیادتی خواہ کم ہو یا زیادہ کل رقم پر زکوة واجبہے اور کل رقم کا چالیسواں حصہ زکوة میں ادا کیا جائے گا صاحبین کے قولمیں احتیاط زیادہ ہے اور فتویٰ کے لئے یہی مختار ہے جیسا کہ فتاویٰ دیوبندوغیرہ سے معلوم ہوتا ہے
٥. تجارت کے مال کی قیمت سونے چاندی کی قیمت کے ساتھ ملا کر زکوة دیجائے گی اسی طرح سونے اور چاندی کو آپس میں قیمت کے ساتھ ملا کر زکوة ادا کریں گے پس اگر کسی کے پاس کچھ چاندی کچھ سونا اور کچھ تجارت کا مال ہےاگر سب کو ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے کی قیمتکے برابر ہو جائے تو زکوة واجب ہو گی ورنہ نہیں اور ایک نقدی کا دوسرینقدی کے ساتھ قیمت کے ساتھ ملایا جانا امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے اور اقل کواکثر کے ساتھ یا اکثر کو اقل کے ساتھ ملانے میں کوئی فرق نہیں ہے یعنی دونوںصورتوں میں سے جس صورت میں بھی نصاب پورا ہو جائے گا زکوة واجب ہو جائے گی، اور صاحبین کے نزدیک اجزا کے اعتبار سے ملایا جائے گا اور یہچاندی کو سونےمیں یا سونے کو چاندی میں ملانا اس وقت واجب ہے جبکہ دونوںجنسیں موجود ہوں اور دونوں یا ان میں سے کوئی ایک بقدرِ نصاب نہ ہو، پس اگرصرف ایک جنس موجود ہے مثلاً صرف سونا یا چاندی ہے تو قیمت کا اعتبار نہیںبلکہ وجوب اور ادا دونوں کے لئے وزن کا اعتبار ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوااسی طرح اگر دونوں میں سے ایک کا نصاب پورا ہو تو ملانا واجب نہیں ہے بلکہان میں سے ہر ایک کی زکوة علیحدہ علیحدہ دینا جائز ہے اور اگر ملا کر کسی ایکسے زکوة ادا کر دے تو کوئی حرج نہیں لیکن اس کے لئے واجب ہے کہ دونوںمیں سے اس کے ساتھ قیمت لگائی جائے جس میں فقرا کو زیادہ فائدہ ہو وضاحت:کے لئے مندرجہ ذیل مثالیں ملاحظہ فرمائیں
اگر کسی کے پاس سونا اور چاندی میں سے ہر ایک نصاب سے کم ہے اگر اندونوں کی قیمت ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے یاساڑھے سات تولہ سونے کی قیمت کے برابر ہو جائے تو زکوة واجب ہو گیورنہ نہیں، اگر کسی کے پاس دو تولہ سونا اور پانچ روپے نقد سال بھر تک رہےاور اس زمانہ میں سونے کا بھائو پچاس روپے تولہ ہے اور چاندی ایک روپے کیڈیڑھ تولہ ملتی ہے تو اس پر زکوة واجب ہے کیونکہ دو تولہ سونا پچاس روپےکا ہوا اور پچاس روپے کی چاندی پچھتر تولہ ہوئی پس دو تولہ سونے کی چاندیپچھتر تولے ملے گی اور پانچ روپے پہلے سے پاس ہیں اس لئے یہ رقم سے زائدہو کر زکوة فرض ہو جائے گی
اگر کسی کے پاس تیس تولہ چاندی ہے اور ایک روپے کی دو تولہ چاندی ملتی ہوتو اس پر زکوة واجب نہیں ہو گی کیونکہ جب صرف چاندی یا صرف سونا پاس ہوتو وزن کا اعتبار ہے قیمت کا اعتبار نہیں ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ