مال تجارت کی زکٰوة کا بیان (صفحہ ٢)
٨. موتیوں میں اور یاقوت وغیرہ جواہرات میں زکوة نہیں ہے لیکن اگر یہتجارت کے لئے ہوں تو ان میں بھی زکوة واجب ہو گی اور نصابِ مشترک میںبھی زکوة واجب نہیں ہے خواہ سائمہ ہو یا مالِ تجارت ہو نصابِ مشترک سےمراد یہ ہے کہ الگ الگ ہر شخص کا مال زکوة کے لائق نہ ہو لیکن جب دونوںکا مال ملا لیں تو نصاب پورا ہو جاتا ہو
٩. اگر کسی شخص نے کانسی پیتل کی دیگچیاں خریدیں اور وہ ان کو کرایہ پرچلاتا ہے تو ان پر زکوة واجب نہیں ہو گی جیسا کہ ان کے گھروں پر زکوة نہیںہے جن کو وہ کرایہ پر چلاتا ہے اسی طرح اگر کسی نے غلہ بھرنے کے لئےباردانہ (بوری گونیں وغیرہ) اس لئے خریدیں کہ ان کو کرایہ پر چلائے گا تو انپر زکوة واجب نہیں ہو گی کیونکہ یہ تجارت کے لئے نہیں ہیں
١٠. اگر کسی کی زمین میں سے گیہوں حاصل ہوئے جن کی قیمت بقدرِ نصابہو اور اس نے یہ نیت کی کہ ان کو روکے گا یا بیچے گا پھر ان کو ایک سال تکروکا تو ان پر زکوة واجب نہیں ہو گی
١١. اگر جانوروں کا سوداگر خرید و فروخت کے جانوروں کے گلے میں ڈالنےکےلئے گھونگھرو یا باگ ڈوریں یا منھ پر ڈالنے کے برقعے و جھول وغیرہ خریدےتو اگر یہ چیز اُن جانوروں کے ساتھ بیچنے کی ہیں تو ان میں زکوة واجب ہو گیاور اگر جانوروں کی حفاظت کے لئے ہیں تو ان میں زکوة واجب نہیں ہو گی، اسیطرح عطّار شیشیاں خریدے تو اس کا بھی یہی حکم ہے
١٢. تجارت کے مال کی زکوة خواہ اس کی قیمت لگا کر چالیسواں حصہ ادا کردی جائے یا اسی مال میں سے چالیسواں حصہ مالِ زکوة دے دیا جائے یا کسیدوسری جنس سے اس کی قیمت کی برابر مال دے دیا جائے تینوں طرح جائز ہیں