اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


عاشر کا بیان (صفحہ ٢)
٨. کافر حربی کا قول کسی بات میں نہیں مانا جائے گا اور اس سے عشر لیاجائے گا لیکن اگر وہ باندیوں کو اُم ولد اور غلاموں کو اپنی اولاد بتائے تو اس کاقول مانا جائے گا کیونکہ نسب جس طرح دارالسالم میں ثابت ہوتا ہے دارالحربمیں بھی ثابت ہوتا ہے اور بیٹے کی ماں ہونا نسب کے تابع ہے اس صورت میںباندی اور غلام مال نہ رہیں گے
٩. عاشر مسلمانوں سے مال کا چالیسواں حصہ لیگا اور ذمی کافروں سےمسلمانوں کی نسبت دوگناہ یعنی بیسواں حصہ لے گا اور حربی کافروں سے دسواں حصہ لیگا بشرطیکہ ان تینوں میں سے ہر ایک کا مال بقدر نصاب ہو اور کافر بھیمسلمانوں سے خراج لیتے ہیں ذمی و حربی کافروں سے جو کچھ لیا جائے گا وہجزیہ کے مصارف میں صرف کیا جائے گا، اگر حربی کافر ہمارے تاجروں سےکم و بیش لیتے ہوں تو ان سے بھی اس قدر لیا جائے اور اگر وہ کچھ نہ لیتے ہوںتو ہم بھی کچھ نہ لیں گے، اگر مسلماںوں کا سارا مال لیتے ہوں تو ان کا بھی سارامال لیا جائے گا لیکن اس قدر چھوڑ دیا جائے گا کہ جس سے وہ اپنے ملک میںواپس پہنچ جائیں، اور اگر وہ ان کا لینا یا نہ لینا معلوم نہ ہو تو ان سے عشرمذکورا یعنی دسواں حصہ ہی لیا جائے گا
١٠. اگر کوئی شخص باغیوں کے عاشر کے پاس سے گزرا اور اس نےعشر لےلیا پھر وہ شخص بادشاہ کے عاشر کے پاس سے گزرا تو اس سے دوبارہ عشر لیاجائے گا کیونکہ باغیوں کے عاشر کے پاس جانا اس کا قصور ہے لیکن بادشاہکے باغی لوگ کسی شہر پر غالب ہوجائیں اور وہاں کے لوگوں سے چرنے والےجانوروں کی زکوة لیں لیں یا مال والا شخص اُن کے پاس سے گزرنے پر مجبورہو اور وہ اس سے عشر وصول کر لیں تو اب اس شخص یا ان لوگوں پر کچھواجب نہیں ہو گا کیونکہ بادشاہ نے ان کی حفاظت نہیں کی اور بادشاہ جو ماللیتا ہے ان کی حفاظت کی وجہ سے لیتا ہے پس قصور اُس کا ہے نہ کہ مالوالوں کا اہل حرب کے غالب آنے کی صورت میں بھی یہی حکم ہے جو باغیوںکا بیان ہوا ہے
١١. امانت کے مال میں سے عشر نہیں لیا جائے گا اور اسی طرح مالِ مضاربتمیں بھی عشر نہیں لیا جائے گا، ماذون غلام کی کمائی میں بھی یہی حکم ہے کہعشر نہیں لیا جائے گا لیکن ماذون غلام کا آقا اس کے ساتھ ہو تو اس سے عشر لیاجائے گا
١٢. اگر کوئی شخص عاشر کے پاس سے ایسی چیز لیکر گزرا جو بہت جلدخراب ہو جاتی ہے مثلاً سبزیاں، دودھ، کھجوریں، تازہ پھل وغیرہ تو امامابوحنیفہ کے نزدیک اس سے عشر نہیں لیں گے اور صاحبین کے نزدیک عشر لیںگے، لیکن اگر عامل کے ساتھ فقرائ ہوں یا اپنے عملہ کے لئے لے لیا تو امامصاحب کے نزدیک یہ بھی جائز ہے اور اگر مالک عشر میں قیمت دیدے تو بھیبالاتفاق لے لینا جائز ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ