اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


کان اور دفینہ کا بیان (صفحہ ٢)
٥. جاہلیت کے دفینے میں خمس لیا جائے گا دفینہ خواہ کسی قسم کا ہو، خواہوہ زمین کی جنس سے ہو لیکن قیمت والا ہو ہر حال میں خمس لیا جائے گا پسمادنیات کی تینوں قسموں میں سے جو چیز بھی زمین میں مدفون پائی جائے اگر وہزمانہ جاہلیت کا یعنی غیر مسلموں کا دفینہ ہے تو اس میں خمس واجب ہےکیونکہ وہ بمنزلہ غنیمت کے ہے جو کہ کفار کے قبضہ میں تھی پھر ہمارےقبضے میں آ گئی اور دفینہ نقدی و غیر نقدی مثلاً ہتھیار، آلات، گھر کا سامان،نگینے اور کپڑے وغیرہ سب کو شامل ہے اہل اسلام کے دفینوں میں خمس نہیںہے ان کا حکم لقتہ کا ہے جس کا حکم یہ ہے کہ مسجد کے دروازوں پر اوربازاروں میں اتنے دن تک اعلان کیا جائے کہ گمان غالب ہو جائے کہ اب اس کامالک نہیں ملے گا پھر اگر خود فقیر ہے تو اپنے صرف میں لائے ورنہ کسیدوسرے فقیر کو دیدے لیکن جب بھی اس کا مالک تلاش کرتا ہوا آئے تو یہ اس کوضمان دیگا دفینہ علامات سے معلوم کیا جائے گا کہ اہل اسلام کا ہے یا غیرمسلموں کا ہے پس اگر اس میں اہل اسلام کا سکہ ہے مثلاً اس پر کلمہ شہادتہے یا کوئی اور ایسا نقش ہے جو مسلمانوں کی نشانی ہے تو وہ لقطہ ہے اوراگر اس میں جاہلیت کے سکے ہیں مثلاً درہموں پر صلیب یا بت کی تصویر بنیہوئی ہے یا ان کے مشہور بادشاہوں کا نام وغیرہ منقوش ہے تو وہ مدن (کان)کے حکم میں ہے اور اس میں خمس ہے ، اگر کوئی علامت نہ ہو اور شبہ پڑجائے تو اس میں اختلاف ہے ظاہر مذہب کے بموجب وہ جاہلیت کے زمانے کاہی سمجھا جائے گا کفار کے درہم مسلمانوں کے درہموں میں مخلوط ہونے کیصورت میں جیسا کہ ہمارے زمانے میں رواج ہے بلاخلاف اسلامی ہی ہونےچاہئیں کان یا دفینہ کا پانے والا خواہ بالغ ہو یا نابالغ عورت ہو یا مرد آزاد ہو یاغلام مسلمان ہو یا ذمی سب اس حکم میں برابر ہیں
٦. اگر دفینہ مملوکہ زمین میں ملے تو سب فقہ کا اتفاق ہے کہ اس میں پانچوںحصہ دینا واجب ہے اور چار حصے جو باقی رہے ان میں اختلاف ہے امامابویوسف کے نزدیک باقی سب پانے والے کے لئے ہے جیسا کہ غیر مملوکہ زمینکے دفینہ کا حکم ہے اور اسی پر فتوی ہے
٧. کان اور دفینہ اگر دارالحرب میں ملے تو اس میں خمس نہیں لیا جائے گا بلکہوہ کل پانے والے کا ہو گا اگر دارالحرب میں مسلمانوں کی ایک شوکت و طاقتوالی جماعت داخل ہو اور ان کا کچھ خزانہ یا مدن ان کو دستیاب ہو جائے تو اسمیں خمس واجب ہو گا کیونکہ وہ غنیمت ہے اس لئے کہ وہ غلبہ اور قہر سےحاصل ہوا ہے
٨. دفینہ اور کان پانے والے کے لئے جائز ہے کہ خمس اپنی ذات پر اور اپنیاصل یعنی ماں باپ پر یا فرع یعنی اولاد پر اور اجنبی پر صرف کرے بشرطیکہیہ محتاج ہوں یعنی اس کو اموال باطنہ کی زکوة کی طرح اس خمس کو فقرا پرخرچ کر دینے کا اختیار حاصل ہے پھر اگر وہ بادشاہ کو اطلاع دے تو بادشاہ کوچاہئے کہ اس کے کئے ہوئے کو قبول کر لے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ