اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


عشر یعنی کھیتی اور پھلوں کی زکٰوة کا بیان (صفحہ ٢)
٤. اگر زمین ایسی ہو جس کو بارش کے پانی نے سیراب کیا ہو یا ندی، نالوںاور نہروں کے جاری پانی سے بغیر آلات کے سیراب ہوئی ہو تو اس میں عشریعنی دسواں حصہ واجب ہے، اور اگر چرس یا رہٹ وغیرہ آلات کے ذریعہ پانیدیا ہو، یا پانی مول لیکر سیراب کیا ہو تو اُس زمین کی پیداوار میں نصف عشر یعنیبیسواں حصہ واجب ہے اگر سال کا کچھ حصہ ندی نالوں وغیرہ سے پانی دیا اور کچھ آلات یعنی چرس اور رہٹ وغیرہ سے دیا تو سال کے نصف سے زیادہ حصہمیں جس طرح پانی دیا جائے گا اس کا اعتبار کیا جائے گا اور اگر دونوں طرحبرابر پانی دیا ہو تو بیسواں حصہ واجب ہے کھیتی کے اخراجات مثلاً کام کرنےوالوں کی مزدوری بیلوں وغیرہ کا خرچہ، نہروں کی کھدائی، محافظ کی اجرتاور بیج وغیرہ اس میں سے وضع نہیں کئے جائیں گے بلکہ ان کو منہا کئے بغیر کاآمدنی میں سے دسواں یا بیسواں حصہ لیا جائے گا
٥. خراجی پانی وہ ہے جن پر پہلے کفار کا قبضہ تھا پھر مسلمانوں نے ان سےزبردستی لے لیا ہو اس کے علاوہ سب پانی عشری ہیں، دریائوں اور بارشوں کا پانی تو عشری ہے ہی کنوئیں اور چشمے وغیرہ جن کو اسلام کے غلبہ کے بعدمسلمانوں نے بنایا ہو یا جن کا کچھ حال معلوم نہ ہو وہ سب اسلامی ہوں گےاور ان کا پانی عشری ہو گا
٦. اگر کسی شخص نے عشری زمین اجارہ پر دی تو امام ابوحنیفہ کے نزدیکعشر مالک پر واجب ہو گا اور صاحبین کے نزدیک مستاجر پر واجب ہو گا بعضکے نزدیک صاحبین کے قول پر فتویٰ ہے اور متاخرین کی ایک جماعت نے امامصاحب کے قول پر فتویٰ دیا ہے پس اگر مالک زمین کی پوری اجرت لیتا ہو اورمستاجر کے پاس بہت کم بچے تو امام صاحب کے قول پر فتوی دیا جائے گا اور عشر مالکِ زمین سے لیا جائے اور اگر مالک کم اجرت لے اور مستاجر کے پاسزیادہ بچے تو فتویٰ صاحبین کے قول پر دیا جائے اور عشر مستاجر سے لیا جائےواللہ عالم بصواب
٧. اگر کسی مسلمان نے زمین مانگ کر زرائت کی تو زمین مانگ کر لینے والےپر عشر واجب ہو گا اور اگر کافر کو زمین مانگی ہوئی دی تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک مالکِ زمین پر عشر واجب ہو گا اور صاحبین کے نزدیک اس کافر پر عشرواجب ہے امام صاحب سے بھی ایک روایت میں اسی طرح ہے لیکن امام محمد کےنزدیک ایک عشر واجب ہو گا اور امام ابویوسف کے نزدیک دو عشر واجب ہوں گے٨. اگر زمین مزارعت( کھیتی کی شرکت) پر دی تو صاحبین کے قول کے بموجبکاشتکار اور زمیندار دونوں پر اپنے اپنے حصہ کے مطابق عشر واجب ہو گا اسیپر فتویٰ ہے
٩. اگر عشری زمین کو کوئی شخص غصب کر کے اس میں کھیتی کرے، پھراس میں زراعت سے کچھ نقصان نہ ہو تو زمین کے مالک پر عشر واجب نہ ہو گابلکہ غاصب پر واجب ہو گا اور اگر زراعت سے اس میں نقصان ہو تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک زمین کے مالک پر عشر واجب ہو گا صاحبین کے نزدیک پیداوارمیں ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ