اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


مصارف زکٰوة و عشر (صفحہ ٣)
٦. فی سبیل اللّٰہ ی سبیل اللّٰہ کا مطلب ہے اس شخص کو دینا جو اللّٰہ کےراستہمیں جہاد کررہا ہو، امام ابویوسف کے نزدیک فی سبیل اللّٰہ سے مراد وہ غازیلوگ ہیں جو فقیری کی وجہ سے لشکر اسلام کے غازیوں سے جدا ہیں یعنی جواپنے فقیر ہونے کی وجہ سے خرچہ یا سواری وغیرہ نہ ہونے کے باعثلشکرِ اسلام کے ساتھ ملنے سے عاجز رہ گئے ہوں ان کو زکوة لینا حلال ہےاگرچہ وہ سب کسب کر سکتے ہوں کیونکہ اگر وہ کسب میں مشغول ہوں گے توجہاد سے رہ جائیں گے، یہی صحیح و اظہر ہے بعض نے فی سبیل اللّٰہ سےطالب علم اور سفر حج میں قافلہ سے بچھڑا ہوا حاجی وغیرہ مراد لیا ہے جبکہوہ خرچ نہ ہونے کی وجہ سے قافلہ میں نہ مل سکے اگرچہ فقیر و محتاج ہونےکی وجہ سے وہ بھی مصرف ہیں اور اس میں شامل ہو سکتے ہیں، طالب علموںاور دیندار مستحق عالموں کو دینا بڑا ثواب ہے
٧. ابن السبیل (مسافر) ابن السبیل سے مراد مسافر ہے یعنی وہ مسافر جو دورہونے کی وجہ سےاپنی مال سے جدا ہو اور اس کے پاس خرچ ختم ہو گیا ہو یااس کا مال چوری ہو گیا ہے یا کوئی اور وجہ ایسی ہو گئی کہ گھر تک پہنچنےکا خرچ نہیں ہے یا مثلاً حاجی کا خرچ ختم ہو گیا ہے اگرچہ وہ اپنے وطن میںمالدار ہے پس اس کو زکوة دینا جائز ہے اگر چہ اس کے گھر والے مال میں اسپر زکوة واجب ہے اور اپنے وطن پہنچ کر اس کو اُس مال کی زکوة دینے کا حکمہے فقیر مسافر کو اپنی ضرورت کے مطابق یعنی جتنا اس کا گمان غالب میں بقدرحاجت ہو لینا جائز ہے ضرورت سے زیادہ لینا حلال نہیں، لیکن جو شخص اپنےوطن میں بھی فقیر ہے اس کو ضرورت سے زیادہ لینا درست ہےجو شخص اپنےشہر میں اپنے مال سے جدا ہو وہ بھی ابن السبیل کے حکم میں ہے مسافر کوزکوة لینے سے قرضہ لینا اولیٰ ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ