اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


زکٰوة ادا کرنے کا طریقہ (صفحہ ٢)
٥. زکٰوة کے مصارف کو زکٰوة دیتے وقت افضل یہ ہے کہ اول اپنے بھائیبہنوں کو دے پھر ان کی اولادوں کو پھر چچائوں اور پھوپھیوں کو پھر ان کی اولاد کو پھر ماموں اور خالائوں کو پھر ان کی اولاد کو پھر ذوی الارحام کو پھرپڑوسیوں کو پھر اپنے ہم پیشہ لوگوں کو پھر اپنے شہر یا گائوں والوں کو دے
٦. زکٰوة ادا کرنے میں وہاں کے فقیر معتبر ہیں جہاں مال ہو، زکٰوة دینے والےکے مکان کا اعتبار نہیں ہو گا اور صدقہِ فطر ادا کرنے میں صدقہِ فطر دینےوالے کے مکان کا اعتبار ہو گا اس پر فتویٰ ہے اور ان کے مکان کا اعتبار نہیںہو گا جن کی طرف سے دے رہا ہے
٧. زکٰوة کی ادائگی کے لئے یہ شرط ہے کہ زکٰوة دینا تملیک کے طور پر ہو اباحت کے طور پر نہ ہو یعنی اس کو پوری طرح مالک بنا دے کہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے اگر صرف اس چیز کو کام میں لانا مباح کر دیا تو یہکافی نہیں ہے جیسا کہ اگر کسی یتیم کو کھانا مباح کر دیا تو اس کو صرف اس کےکھا لینے کا اختیار ہے اس کے سوا اور کچھ اختیار نہیں اور اگر اس کو کھانے کا مالک کر دیا تو اب اس کو اختیار ہے کہ خود کھائے یا دوسرے کو دے دے پسزکٰوة میں زکٰوة لینے والے کو اس کا مالک کر دینا شرط ہےاگر کسی فقیر کو اپنےگھر میں ایک سال تک رکھا اور اس میں زکٰوة ادا کرنے کی نیت کر لی تو زکٰوة ادانہ ہو گی اس لئےکہ اس کو نفع یعنی سکونت کا مالک کیا ہے جو کہ مال نہیں ہےاور مال(مکان) کا مالک نہیں کیا ہےاگر کسی فقیر کا قرضہ اپنے مال کی زکٰوة سےادا کیا تو اگر اس کے حکم سے ادا کیا تو جائز ہے اور اگر بغیر حکم کے ادا کیا توزکٰوة ادا نہ ہو گی اور قرض ساقط ہو جائے گا یہ زکٰوة دینے والی کی طرفسے نفلی صدقہ ہو گااور بالغ و عاقل ہونا اس میں شرط نہیں ہے اس لئے کہنابالغ بچہ کی تملیک صحیح ہے لیکن اگر وہ قبضہ کو نہیں سمجھتا تو اس کا وصی یا ماں باپ یا جو شخص اس کی کفالت کرتا ہو وہ اس کی طرف سے قبضہکر لے
٨. ہمارے زمانے میں جو ظالم حاکم صدقہ، عشر، خراج ، محصول اورمصادرات(جرمانہ) وغیرہ لیتے ہیں اصح یہ ہے کہ یہ سب مال والوں کے ذمہ سے ساقط ہو جاتےہیں بشرطیکہ وہ دیتے وقت ان کو صدقہ دینے کی نیتکر لیں
٩. اپنےغریب رشتہ داروں کے سمجھدار بچوں کو عید وغیرہ کی تقریب کےنامسے زکٰوة دینا جائز ہے اسی طرح خوشخبری لانے والے اور نیا پھل لانے والےکو زکٰوة کی رقم زکٰوة کی نیت سے دینا جائز ہے اگرچہ اس کو انعام کہہ کردی جائے لیکن معاوضہ میں نہ دی جائےجیسا کہ نیت کے بیان میں گزر چکا ہے
١٠. ایک عورت کا مہر ہزار روپیہ ہے لیکن اس کا خاوند بہت غریب ہے کہادا نہیں کر سکتا تو ایسی عورت کو زکٰوة دینا درست ہے اور اگر اس کا شوہرامیر ہے لیکن مہر نہیں دیتا یا اس عورت نے مہر معاف کر دیا تب بھی اس کو زکٰوة دینا درست ہے اور اگر یہ امید ہے کہ جب وہ مانگے گی تو خاوند ادا کردے گا، ایسی عورت کو زکٰوة دینا درست نہیں



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ