اسلام،  زبدة الفقہ،   کتاب الزکٰوة،


صدقہِ فطر کا بیان (صفحہ ٢)
٣. صدقہِ فطر واجب ہونے کا سبب خود اس کی ذات اور وہ لوگ ہیں جن کا ناننفقہ اس کے ذمہ واجب ہے اور وہ ان پر کامل ولایت رکھتا ہےپس صدقہِ فطراپنی طرف سے ادا کرنا واجب ہے اگر کسی شخص نے کسی عذرسے یا بلاعذر روزے نہ رکھے ہوں تب بھی اس پر صدقہِ فطر ادا کرنا واجبہے
اوراس کے نابالغ بچوں اور بچیوں کی طرف سے بھی اس پر واجب ہے لیکن اگرنابالغ بچہ خود مالدار ہو تو اس کے مال میں سے صدقہِ فطر واجب ہو گاکم عقل ، دیوانہ اور مجنون کا بھی وہی حکم ہے جو نابالغ بچے کا ہے یعنی اسکی طرف سےباپ صدقہِ فطر ادا کرے
بیوی کا صدقہِ فطر خاوند پر واجب نہیں ہے
بالغ اولاد کا نفقہ بھی باپ پر واجب نہیں، اگر بالغ اولاد اور بیوی کی طرف سےاور جن کا نفقہ اس کے ذمہ ہے ان سب کی طرف سے ان کی اجازت کے بغیرصدقہِ فطر دے دیا تو ادا ہو جائے گا اِسی پر فتویٰ ہے کیونکہ عادتاً اجازتموجود ہے، اگرچہ نیت کے بغیر فطرہ ادا نہیں ہوتا لیکن اس صورت میں حکماًنیت موجود ہے
اپنی عیال اور اہل نفقہ کےعلاوہ کسی اور کی طرف سے فطرہ دینا ان کی اجازتسے جائز ہے اجازت کے بغیر جائز نہیں پس اگر عورت نے اپنے خاوند کی طرفسے اس کی اجازت کے بغیر فطرہ ادا کر دیا تو جائز نہیں ہےاپنے دادا دادی، نانا نانی، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں کی طرف سے صدقہِفطر دینا واجب نہیں ہے اور اپنے ماں باپ کا فطرہ دینا بھی واجب نہیں اگرچہ انکا نفقہ ان کے ذمہ ہو کیونکہ ان پر اس کو ولایت نہیں ہے جیسا کہ بڑی اولاد پرنہیں ہے لیکن اگر ان میں سے کوئی فقیر اور دیوانہ ہو تو اس کا صدقہ اس پر واجب ہو گا
اپنے چھوٹے بھائی بہنوں اور اپنے دیگر رشتہ داروں کی طرف سے صدقہِ فطردینا اس پر واجب نہیں اگرچہ ان کا نفقہ اس کے ذمہ ہو کیونکہ اس کو ان پرولایت حاصل نہیں ہے اور صدقہِ فطر واجب ہونے کو لئے اس شخص پر ولایت کاملہ حاصل ہونا اور اس کے نفقہ کا ذمہ دار ہونا ضروری ہےاگر اپنی چھوٹی لڑکی کا نکاح کر دیا اور اس کو خاوند کے گھر رخصت کر دیا،اگر وہ خاوند کی خدمت و موانست کے لائق ہے تو اس کا صدقہِ فطر کسی پرواجب نہیں ہے نہ باپ پر، نہ خاوند پر اور نہ خود اس لڑکی پر جب کہ لڑکیخود محتاج ہو اور اگر شوہر کی خدمت و موانست کے لائق نہیں ہے تو اس کاصدقہِ فطر اس کے باپ کے ذمہ ہو گا اور اگر شوہر کے گھر رخصت نہیں کیگئی تو ہر حال میں اس کے باپ کے ذمہ ہے لڑکی کے فطرہ کے متعلق مزیدوضاحت یہ ہے کہ اگر لڑکی مالدار ہے تو خواہ شادی شدہ ہو یا غیر شادیشدہ اور خواہ بالغ ہو یا نابالغ خود اس کے مال میں صدقہِ فطر واجب ہے اوراگر مالدار نہیں لیکن بالغ ہے تو خواہ شادی شدہ ہو یا شادی شدہ ہے اس کا فطرہکسی کو ذمہ نہیں اور اگر مالدار نہیں لیکن نابالغ شاذی شدہ ہے اور رخصت نہیںہوئی تو باپ کے ذمہ ہے اور رخصت ہو گئی ہو تو کسی کے ذمہ نہیں اور اگرشادی نہیں ہوئی اور نابالغ محتاج ہے تو اس کا فطرہ باپ کے ذمہ ہےدادا کےذمہ پوتوں کا صدقہِ فطر واجب نہیں ہے جب کہ ان کا باپ مفلس ہو اورزندہ ہو اور اگر مفلس باپ فوت ہو چکا ہو تو اس میں اختلاف ہے ظاہر الروایتکے بموجب اس صورت میں بھی دادا کے ذمہ پوتوں کا صدقہِ فطر واجب نہیںہےاور امام حسن رحمتہ کی روایت میں واجب ہے



پچھلا صفحہ
اگلا صفحہ



باہ
جملہ حقوق محفوظ ہیں